ابنا: سمندری جیکٹ اس پلیٹ فارم کو کہتے ہیں جسے سمندر میں نصب کرکے گيس اور تیل نکالا جاتا ہے۔ ایران کی شپ یارڈ کمپنی کے نائب سربراہ محمد عباس پور نے کہا کہ اس طرح کے عظیم پروجیکٹ بڑے بڑے بجٹ خرچ کرکے بیرونی کمپنیوں سے کروائے جاتے تھے لیکن پابندیوں کےپیش نظر ایرانی ماہرین نے اپنی صنعتی اور ٹکنالوجیکل مہارتوں کا ثبوت پیش کرتے ہوئے یہ مرحلہ کامیابی سے طے کرلیا ہے اور ایران کی پہلا سمندری جیکٹ جس کا وزن دو ہزار ٹن ہے سمندر میں نصب کردیا ہے۔ جنوبی پارس گيس فیلڈ کے چودھویں مرحلے میں مزید تین جیکٹ نصب کئے جائيں گے۔ اس جیکٹ کی لمبائي چہتر میٹر ہے۔ مزید تین جیکٹوں کی تیاری جاری ہے اور انہیں رواں برس کے آخر میں نصب کیا جائے گا۔
ادھر ایران کی قومی تیل کمپنی میں ڈسٹریبیوشن شعبے کے سربراہ جلیل سالاری نے کہا ہے کہ مغربی ممالک کی طرف سے ایران کے تیل کے بائيکاٹ کی سازشوں کے باوجود متعدد ملکوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کے تیل اور تیل کی مصنوعات خریدنے کے لئے معاہدے کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدے ایشیائي اور یورپی ملکوں کے ساتھ کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رواں برس میں چوالیس ملین لیٹر تیل کی مختلف مصنوعات کی برآمدات کے لئے منصوبہ بندی کی گئي ہے۔ ........ /169